ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پور میں ایک اور اجتماعی عصمت دری کی اطلاع کے بعد لوگوں کا سڑکوں پر اتر کر احتجاج

منی پور میں ایک اور اجتماعی عصمت دری کی اطلاع کے بعد لوگوں کا سڑکوں پر اتر کر احتجاج

Sat, 12 Aug 2023 11:52:00    S.O. News Service

امپھال، 12/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)  منی پور گزشتہ تین ماہ سے نسلی تشدد کی آگ میں جل رہا ہے۔ اس دوران خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی بھی وارداتیں پیش آرہی ہیں، ایسے میں  ریاست میں ایک اور گینگ ریپ کی اطلاع ذرائع سے مل رہی ہے ۔

ذرائع کے مطابق  جمعہ (11 اگست) کو ہزاروں خواتین نے منی پور کے 5 وادی اضلاع میں چورا چند پور ضلع میں ایک 37 سالہ خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج میں میرا پبیس ساگ سے وابستہ ہزاروں خواتین شامل تھیں۔ دھرنے کا اہتمام امپھال ایسٹ، امپھال ویسٹ، تھوبل، بشنو پور اور کاکچنگ اضلاع میں کیا گیا۔

پتہ چلا ہے کہ متاثرہ نے 9 اگست کو درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا  ہے کہ وہ اس ہجوم سے بھاگ رہی تھی جس نے اس کا گھر جلا دیا تھا، تبھی کچھ لوگوں نے اسے روکا اور اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ متاثرہ لڑکی نے ایف آئی آر میں درج بیان میں مزید بتایا کہ اس نے اپنی اور اپنے خاندان کی عزت بچانے اور سماجی بائیکاٹ سے بچنے کے لیے اس واقعے کو پہلے ظاہر نہیں کیا تھا۔

احتجاج کی کال جمعہ (11 اگست) کو میرا پائیبی کی صدر لونگجام میمچوبی نے دی تھی۔ مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے لونگجام بینا دیوی نے کہا کہ ہم چورا چند پور میں 3 مئی کو خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پائیبی نے الزام لگایا کہ میانمار کے مسلح دہشت گردوں نے مردوں اور عورتوں کے خلاف ناقابل بیان جرائم کا ارتکاب کیا۔

بتایا گیا ہے کہ منی پور میں ہونے والے اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے  جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  اب تک ویڈیو میں نظر آنے والے نو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ منی پور میں 3 مئی سے نسلی تشدد جاری ہے۔ میتئی برادری کے لوگ ریاست میں قبائلی حیثیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جس کی وجہ سے کوکی اور میتی برادریوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہو رہی ہیں۔


Share: